A-magasinet

ساس: اگر وہ باز نہ آئی تو میں اسکو جان سے مار کر دریا میں پھینک دونگی

ناروے میں ازدواجی خوشی کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ وہ نوجوان پاکستانی خاتون بائیں آنکھ کے نیچے ایک بڑے سےنیل کے ساتھ پناہ گاہ میں آتی ہے۔ سسرالیوں کے طرف سے کیے جانے والےتشدد کے بارے میں بہت کم گفتگو سرِ عام کی جاتی ہے۔

Foto: Åge Peterson

  • Olga Stokke
    Olga Stokke

وہ اپنی ساس کے سامنے فرش پہ اسکے قدموں میں بیٹھ کر اسکے پاوں پکڑتی ہے ۔ پھر ہتھیلیاں جوڑ کے معافی کی طلبگار ہوتی ہے۔   28  سالہ عیشاء چار ماہ کے حمل سے ہے۔
ساس شدید برہم ہے۔ جیسا اس سے پہلےبھی وہ کئی بار اپنی بہو پر ہو چکی ہے۔ لیکن اس بار عیشاء کا فرش پر بیٹھ کر گڑگرانا کسی کام نہ آیا۔

کچھ دیر بعد جب وہ ساس سسر کےگھر کے نچلے حصےکے ساتھ ملحق رہائش گاہ کی جانب جا رہی ہوتی ہے جہاں وہ اور اسکا شوہر رہتے ہیں تو اس نے سنا کہ اسکے والد کو پاکستان فون ملایا جا رہاہے اور اسکی ساس کی آواز اسکے کاںوں میں پڑی:
- اگر یہ باز نہ آئی تو میں اسکو جان سے مار کر دریا میں پھینک دونگی۔
اسکے فوراً بعد ہی اسکا شوہر، ساس اور سسر اسکے پیچھے پیچھے سیڑھیاں اتر کے اسکی رہائش گاہ میں آتے ہیں۔

مئی 2018  میں موسمِ بہار کے اس گرم دن عیشاء اور اسکی ساس کے درمیان جو کچھ ہوتا ہے اسکے نتیجے میں ڈیڑھ سال بعد دونوں عدالت میں ملتی  ہیں۔

ناروے کی عدالتوں میں ساس اور بہو کے درمیان تنازعات شاز و نادر ہی پیش ہوتے ہیں۔ لیکن Aftenposten کو اس بات کی بصیرت حاصل ہوئی ہے کہ جس میں لوگوں کے خیال میں کوئی ایسا پوشیدہ مسلہء ہے جو چند اقلیتی خواتین کو متاثر کر رہا ہے: سسرال والوں کا تشدد۔

نومبر 2019 میں ہم اوسلو  سیشن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران موجود تھے، جہاں عیشاء کی ساس، جو پاکستانی پسِ منظر سے تعلق رکھنے والی 50 کی دہائی عمر کی عورت تھی جس پر اپنی بہو پر تشدد کرنے کا الزام عائد تھا۔ فردِ جرم کے مطابق "اس نے اپنی بہو کو چہرے پر بائیں آنکھ کے پاس اور سر کے پچھلے حصّے میں مارا تھا اور بالوں سے پکڑ کر کھینچا تھا"۔

Foto: Åge Peterson

ہماری سوچ سے تجازو کرتا ہوا

اس قسم کا تشدد ہماری سوچ سے کہیں زیادہ وسعت رکھتا ہے۔مقدمہ میں گواہی دینے والی آمنہ وسیم نے Aftenposten کو بتایا کہ اکثر اوقات سُسر یا داماد کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے، جبکہ یہ ساس ہے جس کو جوابدہ ہونا چاہیے۔

آمنہ وسیم ڈیاپراکسس تنظیم کی بانی اور چئیرمین ہیں اور کئی ایسی پاکستانی خواتین نے ان سے رابطہ کیا ہے جنہوں نے ناروے میں رہنے والے مردوں سے شادی کی ہے۔ وہ خواتین جو اپنی نارویجن پاکستانی ساس کی طرف سے مُکے مارنے، لاتیں مارنے، گھسیٹنے اور دھکیلنے کے علاوہ ہراساں کرنے، جبر اور روک ٹوک اور قیدِ تنہائی کی باتیں بتاتی ہیں

بہو، جسے ہم نے عیشاء کے نام سے پکارنے کا انتخاب کیا ہے، بیانیہ قلم بند نہیں کروانا چاہتی
تھی۔اُسے ناروے میں نارویجن پاکستانی ماحول میں سسرالیوں اور دیگر افراد کی طرف سے انتقامی کاروائی کا خدشہ ہے۔ لہذا بیان کردہ واقعات کو مقدمے کی کاروائی کے دوران ابھرنے والی معلومات اور فیصلے کی بنیاد پر لکھا گیا ہے۔

ساس نے عائد کردہ الزامات کا اعتراف نہیں کیا، لیکن اوسلو سیشن کورٹ نے اسے 45 دن کی
آزمائشی مدت کیساتھ مشروط سزا سنائی۔ عدالت کا ماننا ہے کہ جب سسرالیوں نے عیشاء کو پرچہ واپس لینے کی لیے دباو ڈالنے کی کوشش کی تو یہ اس پر ایک اضافی بوجھ آن پڑا۔ تاہم وہ پرچہ واپس لے بھی نہیں سکتی تھی کیوں کہ تشدد کے بارے میں کیس پولیس نے خود درج کیا تھا۔

ساس نے عدالت کا فیصلہ قبول کر لیا جو بہرحال قابلِ عملدار ہے۔ اس نے Aftenposten کے ساتھ اس معاملے سے متعلق بات کرنے سے انکار کر دیا ہے یہ بھی نہیں چاہتی کہ وکیلِ صفائی کوئی تبصرہ کرے

لائی گئی دلہن ناروےمیں خشگوار ازددواجی زندگی کے خواب سجا کر آئی تھی

عیشاء نام نہاد لائی گئی دلہن ہے۔ وہ پاکستان کے شہر گجرات میں پیدا ہوئی اور وہیں پلی بڑھی، جہاں اس نے آرٹس میں گریجوایشن کیا اور بچوں کی درسگاہ میں کام کیا۔ 24 سال کی عمر میں اس نے خود سے ایک سال بڑے اوسلو سے تعلق رکھنے والے شخص سے شادی کی جو پیشے کے اعتبارسے کُک ہے۔ شادی گھر والوں کی مرضی سے کی گئی تھی لیکن دونوں نوجوانوں نے ایک دوسرےکا انتخاب کیا۔ وہ ایک ساتھ زندگی گزارنا چاہتے تھے۔

پاکستانی قبائلی ثقافتوں سے قدیم روایات کے ساتھ وابستہ ہیں، جہاں خواتین مردوں کے تابع ہیں۔ اب اکثر تارکینِ وطن کے بچے طویل تعلیم حاصل کرتے ہیں، تاخیر سے شادی کرتے ہیں، اپنے جیون ساتھی کا انتخاب خود کرتے ہیں، اور کم بچے پیدا کرتے ہیں۔ اسکے باوجود کچھ لوگ اب بھی اپنے شریکِ حیات پاکستان سے چنتے ہیں، عیشاء کے شوہر کی طرح۔

شروعات میں معاملات اچھے چل رہے ہوتے ہیں۔ عیشاء خوش وخرم اور امیدوں سے بھر پُور اپنے شوہر اور اسکے بڑے کنبے کے ساتھ انکے باغ والے گھر میں منتقل ہوتی ہے۔ آخرکار وہ اسکےساتھ رہنے والی ہے جس سے اس نے سال قبل سنہ2013 میں شادی کی۔ وہ پاکستان میں اپنے والدین، بہن بھائیوں اور گاوں کو چھوڑ آئی ہے۔ مگر ناروے میں بھی وہ ایک بڑے کنبے میں اپنے شوہر، اسکے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ رہے گی، جیسا اکثر بہویں کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ وہ اپنے سسرال کو پہلے سے جانتی ہے، اسکی ساس اسکی کزن ہے۔ لیکن سب کچھ اسکی امید کے مطابق نہیں ہوتا

پولیس کے بقول اور اسکے اپنے بیان کے مطابق وہ اپنے نئے وطن سے آشنا ہونے کی بجائے مقید کر دی جاتی ہے۔ اسے نارویجن زبان سیکھنے، نوکری کرنے اور اپنا ذاتی فون لینے سےمنع کردیا جاتا ہے۔ اپنی ساس کے ساتھ اختلافات حل کرنے کی کوشش میں کبھی وہ اسکا حکم مان لیتی ہے، اور بعض اوقات اسکی اپنی بھی آواز بلند ہو جاتی ہے۔

Foto: Åge Peterson

پاکستان میں "چھٹکارا حاصل کیا گیا"

2017 کی خزاں کے ایک دن ، نوجوان جوڑا جہاز پہ سوار ہوتا ہے۔ وہ عیشاء کے والدین کو اپنا بیٹا دکھانے جا رہے ہیں جو سال قبل پیدا ہوا۔لیکن ڈیڑھ ہفتے بعد ہی عیشاء کو احساس ہوا کہ سسرال والوں نے اسکے لیے منصوبے بنائے ہوئے ہیں۔

وہ عدالت میں کہتی ہے کہ دفعتاً میرے شوہر نے کہا کہ وہ واپس جا رہا ہے، اکیلا، اور میں یہیں رہوں گی۔ جب ہم وہاں پہنچے تھے تو اس نے میرا پاسپورٹ لے لیا تھا اوراب وہ اسی کے پاس تھا۔

پولیس کے مطابق پاکستان میں اس سے چھٹکارا حاصل کیا گیا تھا۔ جس اثنا میں خاوند واپس جاتا ہے وہ اور اسکا بیٹا  اپنے خاندان کے پاس رہ جاتے ہیں۔ ہفتے مہینوں میں میں بدل جاتے ہیں۔

مایوس ہو کر گجرات میں کسی جاننے والے کے ذریعے وہ نارویجن آمنہ وسیم کے ساتھ رابطہ کرتی ہے۔ سفارت خانے سے رابطہ کرنے کے علاوہ ازیں آمنہ وسیم کی رائے عیشاء کے لیے صاف ہے٫ ;تمھیں ناروے آنا چاہیے۔ اور اگر شوہر کہے میں بچہ لے جاتا ہوں تم بعد میں آ سکتی ہو تو اس بات پر کبھی اتفاق نہ کرنا

آمنہ وسیم سے وہ خواتین رابطہ کرتی ہیں جو گھریلو بشمول سسرالی تشددکا شکار ہوتی ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ خاندان والے انہیں ترغیب  دیتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی خاطر، اپنے والدین کے وقار کی خاطر تشدد برداشت کریں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گی تو لوگ کیا کہیں گے؟ آمنہ وسیم کا کہنا ہے کہ عیشاء کے لیے اس بات کی بہت اہمیت ہے کہ اسے اپنے خاندان بشمول باپ اور بھائی کی مدد حاصل رہی۔ Foto: Privat

تاہم آمنہ وسیم کا تاثر یہی ہے کہ عیشاء اور اسکا شوہر اکٹھے رہنا چاہتے ہیں۔ اور اس سے پہلے کہ سفارت خانہ کچھ کر پاتا، وہ اپنی بیوی اور بچے کو واپس ناروے لے جاتا ہے۔ چار ماہ گزر چکے ہوتے ہیں۔

پاسپورٹ اور اپنی مرضی سے محرومی

عیشاء کا سسرال میں تسلیم نہ کیے جانے کا تجربہ انوکھا معاملہ نہیں ہے۔ پہلے بھی 2002 میں اسلام آباد میں نارویجن سفارت خانہ نے اپنے داخلی امور کے بیانیے میں اعلان کیا تھا کہ نارویجن- پاکستانی مردوں کے ساتھ شادی کرنے والی عورتوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاتا ہے۔ پندرہ سال بعد 2017 میں سفارت خانہ ایک تحقیقی داستاویز میں وزارتِ خارجہ پھر سے خبردار کرتا ہے: "خواتین اپنی مرضی کے خلاف شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور رقم سے محروم ہو کر پاکستان واپس لوٹی ہیں"۔ 2008 میں اسلو کے حفاظتی مرکز نے یہ حقیقت اجاگر کی کہ عورتیں واپس بھیج دیے جانے سے خوفزدہ ہیں اور بہت سوں کے ساتھ یہ تجربہ ہوا ہے۔

پولیس کو یقین ہے کہ جس قسم کے تشدد سے عیشاء کو دوچار کیا گیا وہ حقیت میں اس سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پہ پھیلا ہوا ہے۔ پولیس کی مختارِ قانون Lena Skjold Rafoss جو اس مقدمے کی وکیلِ استعاثہ ہے وہ Aftenposten کو بتاتی ہے کہ دائرہ کار کا کوئی عمومی جائزہ یا معانیہ نہیں ہے، مگر ساسوں کا اپنی بہوں پر تشدد کچھ معاشروں کا مسئلہ ہے خصوصاً اقلیتی خاندانوں میں جو اجداد گھرانوں میں رہتے ہیں۔

Rafoss کہتی ہیں کہ یہ غالباً غیر اندراج شدہ اعداد و شمار ہیں کیونکہ ایسے معلات بہت سی وجوہات کی بنا پہ شاز و نادر ہی درج کرواِئے جاتے ہیں۔ وہ اوسلو پولیس میں قریبی تعلقات میں تشدد اور جنسی جرائم کے شعبہ میں کام کرتی ہیں۔ اسے معاملات کے رپورٹ کے اعداد و شمار نہیں ہوتے۔

پولیس اٹارنی Lena Skjold Rafoss Foto: Privat

ساس کا پارہ چڑھ گیا

جب عیشاء پاکستان چھوڑے جانے کے بعد ناروے واپس آتی ہے تو وہ جلد ہی دوسری مرتبہ حاملہ ہو جاتی ہے۔ لیکن اس وجہ سے بھی اس کی زندگی اس بڑے کنبے میں سہل نہیں ہوتی۔ پاکستان میں رہتے ہوئے آمنہ وسیم کے ساتھ کیا گئے رابطے کے نتیجے میں آمنہ وسیم نے ادارہ تحفظِ اطفال کو اطلاع بھیج دی کہ اسے شُبہ ہے کہ عیشاء کو اسکی ساس کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 مئی 2018 کے دن جب ساس کو اس بات کا علم ہوتا ہے تو اسکا پارہ چڑھ جاتا ہے۔

عیشاء کا ساس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے فوراً بعد کی موبائل میں موجود بات چیت اور فون کال کی تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے آمنہ وسیم سے پولیس کو بُلانے کی التجا کی تھی۔

Foto: Åge Peterson

حقیقتاً کیا ہو تھا؟

ساس نے عدالت کو بیان دیا کہ اُس نے اور اسکی بہو نے جھگڑا کیا اور " ایک دوسرے کو پکڑا" ، مگر جب استغاثہ نےکہا کہ پولیس کی پوچھ گچھ کے دوران اُس نے اپنی بہو کو دھکیلنے کا اعتراف کیا ہے تو وہ کہتی ہے کہ :" ہو سکتا ہے کہ یہ صحیح ہو"۔

شوہر نے تفتیش میں بتایا کہ کوئی جسمانی تنازعہ نہیں ہوا، مگر عدالت میں وہ کچھ اور بیان کرتا ہے کہ ماں اور اہلیہ نے "ایک دوسرے کو پکڑا تھا"۔ گواہی دیتے ہوئے اپنی ماں کو ملزم کے کٹہرے میں دیکھتا ہے۔  اہلیہ اسکی گواہی کے دوران کمرہ عدالت چھوڑ چکی ہے۔

عیشاء نے تفتیش کے دوران بتایا کہ ساس نے اسے "تپھڑ مارا" اور اسکے سر میں مارا، شاید مکے سے۔ عدالت میں اسے یاد نہیں کہ اسکے چہرے پہ نشان کیسے پڑا، مگر اسکا کہنا ہے کہ ساس نے اسے بالوں سے بھی گھسیٹا اور فرش پر نیچے پٹخا۔

پولیس افسر جس نے عیشاء کو فرش پر پایا تھا اُس نے گواہی دی کہ: " اسکے بال الجھے ہوئے تھے، آنکھیں شدید لال تھیں، اور بائیں آنکھ سُرخ اور سوجی ہوئی تھی"۔ وہ اس قدر خوفزدہ تھی کہ اس نے افسر کو بازو سے تھام لیا اور کہنے لگی کہ اسکو چھوڑ کے نہ جایا جائے۔

کس نے مارا؟ والدہ کے وکیلِ صفائی نے محفی طور پر اشارہ کیا کہ ایسا اسکے شوہر نے کیا ہو گا۔ عدالتی فیصلے میں لکھا ہے کہ "عیشاء شدر رہ گئی تھی کیوںکہ اسکا شوہر اسے پٹتا ہوا دیکھ رہا تھا"

عدالت میں اسکا شوہر کہتا ہے کہ اسکو نہیں معلوم کس نے مارا۔

استغاثہ کے سوال پر کہ اپنی ماں اور اہلیہ کے مابین کسی معاملے میں گواہی دینے کا تجربہ کیسا ہوتا ہے، وہ جواب دیتا ہے :۔"مشکل"
اسکا شوہر اس معاملے پر Aftenposten  سے بات نہیں کرنا چاہتا۔

ساس کے مطالبات

محققین جنہوں نے مختلف ممالک کے لوگوں کے مابین شادیوں کا مطالعہ کیا ہے، کے مطابق بڑا خاندان اور سسرال والے کچھ غیر ملکی شریکِ حیات کے لیے تحفظ کا احساس ہو سکتے ہیں۔ کچھ  کے درمیان طلاق اسلیے ہو جاتی ہے کہ ساس کے مطالبات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں۔ مردوں کی وفاداری ایک باریک دھاگے پہ ماں اور بیوی کے درمیان توازن کرتی ہے۔ کچھ خواتین سسرال کی نوکرانیاں بن جاتی ہیں اور کچھ اپنے بچے کھو دیتی ہیں جو سسرال والے رکھ لیتے ہیں۔

۔ روایتی خاندانوں میں جہاں خاندان کے بزرگ مرد سربراہ ہوتے ہیں، بیٹے ہی ماوں کا سب سے اہم سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر شوہر کی وفات ہو جائے یا وہ الگ ہونا چاہے وہ اپنی ماؤں کی دیکھ بھال کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ اوسلو میٹ کے فلاحی تحقیقی ادارے NOVAکی محقق Anja Bredal کا کہنا ہے کہ اسے ماحول میں عورت کے لیے تنہا رہنا شرم کی بات ہوتی ہے۔ وہ 20  سے زیادہ سالوں سے جبری شادی اور گھریلو تشدد پر تحقیق کر رہی ہے۔

تحقیق کار Anja Bredal ساس کا بہو پر تشدد کرنے کی بہت سی وضاحتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ Foto: Privat

Bredal ایک ایسے پراجیکٹ کی رہنمائی کر رہی ہیں جس میں ایک ہی پسِ منظر سے تعلق رکھنے والے مرد یا سسرالیوں کے طرف سے تشدد، استحصال اور دھمکیوں سے متعلق  97  خواتین اپنے تجربات بانٹ رہی ہیں۔ زیادہ تر خواتین نارویجن ہیں لیکن ایک چوتھائی پاکستان، ترکی ، عراق اور صومالیہ جیسے ممالک سے تعلق رکھتی ہیں۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والی اطلاع دہندہ کا کہنا ہے کہ سسرال والے اس طرح کا سلوک کر سکتے ہیں : اگر وہ کوئی کام کریں جسے سسرال والے پسند نہ کریں تو انکو بچوں کے ادارہ تحفظِ اطفال کو شکایت کی اور واپس بھیجے جانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ انکو گھر کا سارا کھانا بنانا پڑتا ہے اور خود فرش پر بیٹھنا پڑتا ہے جب باقی کنبا کھانا کھاتا ہے جو خود گوشت کھاتا ہے اور انکو دال کھانی پڑتی ہے۔

بہت سی ساسوں نے خود بہت قربانیاں دی ہیں، ضبط کیا ہے اور درجہ بدرجہ انکا رتبہ بڑا۔ اور آخر کار وہ وقت آیا جب وہ اپنے فیصلے خود کر سکتی تھی۔Bredal  کا کہنا ہے کہ ساس جتنا کم اپنی مرضی کی زندگی گزار پاِئی، اتنا ہی وہ اپنی بہو کی آزادی، خود اعتمادی اور خود مختاری سے خطرہ  محسوس کرتی اور انکا ردِ عمل دوسروں کے لیے دھمکی آمیز ہو جاتا۔

کمرہ عدالت 227 میں ڈرامہ

عیشاء کی ساس 17سال کی تھی جب وہ ناروے آئی۔ 30 سال بعد وہ ایک روایتی لباس کے اور سفید دوپٹا اوڑھے کٹہرے میں بیٹھی ہے۔ مترجم کے ذریعے وہ بتاتی ہے کہ عیشاء کو معافی کیوں مانگنا پڑی: بہو نے اسکے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔

ساس آگے بتاتی ہے کہ اسکو لگتا ہے کہ اسکو بدنام کیا گیا ہے اور اسکی غلط طریقے سے نمائندگی کی گئی ہے۔ ایک مو قع پر وہ اس قدر مشتعل ہو جاتی ہے کہ وہ کمرہ عدالت 227 میں آپے سے باہر کی ہو جاتی ہے۔
۔ٹھیک نہیں ہے، سب کچھ گھٹیا ہے! وہ اپنی بہو کے خلاف مشتعل ہوتی ہے۔ جج اسے پرسکون کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن آخر کار اس عدالت کو وقفہ لینے کے لیے کہنا پڑتا ہے۔

بعد ازاں جب امدادی وکیل عیشاء سے پوچھتا ہے کہ کیا ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں تو وہ جواب دیتی ہے: میں اسکی عادی ہوں۔

ساس اور بہو کے مابین بہت نایاب مقدموں میں سے ایک نومبر 2019 میں اوسلو کے ضلعی کمرہ عدالت طے پایا۔ معاون وکیل Sverre Ulstrup اور وکیل استغاثہ اور پولیس کی مختارِ قانون Lena Skjold Rafoss

پناہ گاہ کا مرکز راستہ دکھاتا ہے

دیگر خواتین کی طرح جنہیں مارا پیٹا گیا عیشاء کو بھی پناہ گاہ کا مرکز ہی اس واقعے کے بعد اپنے پاوں پر کھڑا ہونے میں مدد دیتا ہے۔ وہاں وہ اپنے ہم خیال لوگوں سے ملتی ہے۔ اوسلو پناہ گاہ مرکز میں اقلیتی منظر والی خواتین کی زیادہ نمائندگی ہے۔ پچھلے 10 سے 15سالوں میں مدد کی تلاش میں آنے والی خواتین میں 85 سے 90 فیصد اقلیتی خواتین ہیں۔ مرکز کی رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ، چار میں سے ایک، شوہر کے علاوہ دوسرے لوگوں کی بدسلوکی کا بتاتی ہیں، مثال کے طور پر سسرال والے۔

ان میں سے بہت سوں کے لیے، گھریلو تشدد کی تاریخ ایک راز کی طرح ہے۔ عیشاء کی آزماِئش عدالتی کیس اور کیس کے بعد سزا کے فیصلہ سے ختم ہوئی کیونکہ  اس نے ہمت کر کے آمنہ وسیم سے مدد مانگی، اور اس لیے کہ پولیس نے آنے کے بعد معاملے کو درج کروانے کا انتخاب کیا۔

جب عیشاء کی عدالت میں بیان دینے کی باری آتی ہے تو وہ کمر سیدھی کیے کھڑی ہوتی ہے۔ سیاہ پتلون پر لال قمیض زیب تن کیے وہ سکون سے استغاثہ، وکیلِ صفائی، اور امدادی وکیل کے تمام سوالوں کے جواب دیتی ہے۔

اسکے لمبے بال ایک پونی ٹیل میں جمع ہیں۔ اسکی آنکھوں کے نیچے کا زخم ختم ہو چکا ہے جب وہ اپنی ساس کی طرف دیکھتے ہوئے اسکے لگائے گئے جھوٹ کے الزامات اور عزت کےدھجیاں اڑائے جانے کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔ :" میرے خاندان کی عزت کا کیا ہوگا؟میرے والد کی عزت بھی پامال ہوئی ہے۔"

آدھے سال بعد عیشاء اپنے دو بیٹوں کے ساتھ تنہا رہ رہی ہے جو دن کے اوقات میں ڈے کئِیر میں جاتے ہیں۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ بھی اچھے طریقے سے تعاون کر رہی ہے اور جب وہ بچوں کے ساتھ ملاقات کرنے آتا ہے تو وہ بھی وہاں موجود رہتی ہے۔ لیکن اب بھی وہ اس مضمون میں حصہ ڈالنا نہیں چاہتی۔

میں اب خود مختار ہونا چاہتی ہوں۔ میں اب اپنے بچوں کے ساتھ رہنا، نارویجن زبان سیکھنا، گاڑی کا لائسنس لینا اور کام کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے بہت سی مشکلات، تناو اور پریشانی سہی ہے۔ لیکن اب میں ٹھیک ہوں۔ تمام خواتین آزادی کیساتھ زندگی بسر کرنے کا خواب دیکھتی ہیں۔ اس نے نارویجن سیکھنے کے لیے فہرست میں اپنا نام بھی لکھوا دیا ہے۔

میں چاہتی ہوں میں کل سے ہی شروع کر لوں۔

Les mer om

  1. Vold
  2. Aftenposten

Relevante artikler

  1. A-MAGASINET

    Hva gjør alle barna som måtte bli hjemme i sommer?

  2. A-MAGASINET

    Olaug Bollestad om sin Instagram-konto: – Ingen får bestemme hva jeg skal legge ut

  3. A-MAGASINET

    Få snakker høyt om svigervold. Dette er Ishas historie.

  4. A-MAGASINET

    Én av brødrene ble barneprostituert. Den andre alkoholiker som tenåring. Nå saksøker de barnevernet.

  5. A-MAGASINET

    Oslo: Det lille tyttebæret

  6. A-MAGASINET

    Aldri har hasj vært sterkere. Anne (20) turte til slutt ikke gå i butikken.